جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی


اس تحریر میں شامل تفصیلات چند قارئین کے لیے باعث تکلیف ہو سکتی ہیں۔

’گاڑی سرنگ میں نہیں تھی، کھلی جگہ تھی۔ وہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے، ہم سے بہت زیادہ۔‘

یہ الفاظ جعفر ایکسپریس میں سوار ریلوے پولیس کے اس اہلکار کے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کے حملے کے بعد پہلے تو انھوں نے دیگر ’پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا‘ لیکن پھر ’ایمونیشن ختم ہونے پر‘ انھیں بھی یرغمال بنا لیا گیا۔

یہ اہلکار، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی، کہتے ہیں کہ وہ ریل گاڑی پر بلوچ لبریشن آرمی کے شدت پسندوں کے حملے کے چند گھنٹے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے لیکن اس سے پہلے انھوں نے اس مقام پر کیا دیکھا اور جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا، اس کی تفصیل انھوں نے بی بی سی کو بتائی۔

مذکورہ اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ریلوے پولیس کے چار اور ایف سی کے دو اہلکار تھے۔ ’میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا۔ پانچ ہم تھے اور دو ایف سی والے تھے، ہم سات آدمی تھے۔‘

اہلکار کے مطابق انھوں نے حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جوابی فائرنگ کرنے لگے۔

’میں نے ساتھی سے کہا کہ مجھے جی تھری رائفل دے دو کیوں کہ وہ زیادہ بہتر ہتھیار ہے۔ مجھے رائفل اور راؤنڈ مل گئے تو ہم نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ میں ایک ایک گولی چلاتا تھا ان کی طرف تاکہ وہ ہمارے اور ریل گاڑی کے قریب نہ آ سکیں۔‘

بی بی سی ان کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا۔

Comments